بچوں کا اسکرین ٹائم کتنا ہونا چاہیے؟ جدید تحقیق اور ماہرین کی رائے


بچوں کا اسکرین ٹائم کتنا ہونا چاہیے؟ جدید تحقیق اور ماہرین کی رائے



ایک بچی ایل سی ڈی  کی سکرین پر کارٹون دیکھ رہی ہے۔

ماہرینِ صحت کی آراء، جدید تحقیق اور والدین کے لیے آسان تجاویز، بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی حد


مصنفہ: مریم افضل


جب موبائل، ٹی وی اور گیمز بچوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن جائیں

آج کے دور میں جب بھی اور جہاں بھی دیکھیں بچوں کا دن موبائل، لیپ ٹپ/کمپیٹر یا ٹیبلٹ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔صبح آنکھ کھلنے کے بعد سے لے کر رات سونے تک، کہیں کارٹون، کہیں یوٹیوب،تو کہیں گیمز میں بچے گھسے رہتے ہیں اوروالدین  بچارے بے بس اور پریشان حال نظر آتے ہیں کہ آخرکریں تو  کیا کریں، بچوں کو کیسے باز رکھیں؟  بطور ایک ماں ، میں خود بہت پریشان رہتی تھی پھر میں نے اس کا حل 

والدین اکثر یہی سوچتے ہیں کہ:

  •         اتنا وقت اسکرین کے سامنے گزارنا کیا صحیح ہے؟
  •         آخر بچوں کے لیے کتنا اسکرین ٹائم مناسب ہے؟

یہ سوالات بالکل درست ہیں، کیونکہ جہاں اسکرین ہمیں معلومات، تفریح اور سیکھنے کے مواقع دیتی ہے، وہیں یہ جسمانی، ذہنیاور اخلاقی صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ ماہرین کیا کہتے ہیں، بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی مناسب حد کیا ہے، اور والدین  اپنے بچوں کی بہتر رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں۔


بچے، سوشل میڈیا اور جدید دنیا

آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ بچوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ جہاں کبھی بچے کھیل کے میدان میں بھاگاکرتے تھے، آج وہ گھنٹوں موبائل، ٹی وی یا گیمز کی دنیا میں گم رہتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق، بچے اب بڑوں سے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں ،اور یہی بات والدین کے لیے تشویش کاباعث بنتی جا رہی ہے۔


اسکرین ٹائم سے کیامرادہے؟

اسکرین ٹائم سے مراد وہ وقت ہے جو ہم یا ہمارے بچے ، ٹی وی، موبائل، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے گزارتےہیں۔

یہ وقت تعلیمی سرگرمیوں، تفریح، یا صرف ویڈیوز اور گیمز دیکھنے میں گزر سکتا ہے۔لیکن جب یہ وقت زیادہ ہو جائے، تویہی “دلچسپی” نقصان میں بدل سکتی ہے۔


بچوں پر زیادہ اسکرین ٹائم کے نقصانات یا منفی اثرات

زیادہ اسکرین ٹائم بچوں پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ذیل میں چند عام مگر خطرناک اثرات بیان کیے گئے ہیں:

 

1۔ جسمانی صحت کے مسائل

جب بچے گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں، تو ان کی جسمانی سرگرمیاں ختم ہو جاتی ہیں تو  نہ کھیل کود، نہ دوڑنا، نہ کوئی حرکت، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ:

  •         موٹاپا
  •         کمزور پٹھے
  •         خراب نیند
  •         کمزور نظر
  •         سر درد یا مائگرین

 

   2۔ ذہنی اور نفسیاتی اثرات

  •         ماہرین کے مطابق، زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کے ذہن پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
  •         وہ چڑچڑے، بے صبرے اور تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
  •         کچھ بچوں میں ڈیپریشن اور اینگزائٹی (اضطراب) کے آثار بھی پائے گئے ہیں۔

 

3۔ توجہ میں کمی

  •         امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (AAP) کی تحقیق کے مطابق،
  •         چھوٹے بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔
  •         اس کا اثر بعد میں ان کی پڑھائی اور سیکھنے کی رفتار پر بھی پڑتا ہے۔
  •         چھوٹے بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔
  •         اس کا اثر بعد میں ان کی پڑھائی اور سیکھنے کی رفتار پر بھی پڑتا ہے۔

 

   4۔ نیند کی کمی

  •         جب بچے رات دیر تک موبائل یا ٹی وی دیکھتے ہیں، تو نیند کا نظام بگڑ جاتا ہے۔
  •         نیلی روشنی (Blue Light) دماغ کو سونے کے سگنل دینے سے روک دیتی ہے۔

 

5۔ دماغی نشوونما پر اثر

(Qustodio Research, 2023) کی حالیہ ریسرچ کے مطابق، زیادہ اسکرین ٹائم سے بچوں کے دماغ کے “وائٹ میٹر” میں تبدیلی آ سکتی ہے،جو زبان سیکھنے، یادداشت اور سوشل اسکلز پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے

  ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسکرین کا استعمال کم کیا جائے اور بچوں کو “حقیقی دنیا کے تجربات” میں شامل کیا جائےتو یہ دماغی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت: (WHO) کی سفارشات

  1. (WHO)ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کی حد کچھ یوں ہے
  2. بچوں کے لیے سفارش کردہ وقت (Guidelines)  اور بچوں کے لیے تجویز کردہ وقت (ہدایات)


اسکرین ٹائم عمر کی حد اہم ہدایات

  •         1سے 18 ماہ تک کوئی سکرین نہیں۔
  •         18 ماہ سے کم عمر بالکل نہیں، صرف ویڈیو کالنگ کی اجازت ہے بچوں کو حقیقی چہرے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
  •         18۔    24 ماہ کے لیے۔ماہ کے لیے صرف معیاری (تعلیمی) مواد، والدین کے ساتھ بغیر نگرانی کے اسکرین ٹائم۔
  •         2-5 سال فی دن ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہمیشہ والدین کے ساتھ دیکھیں۔
  •         2 سال سے زیادہ واضح اصول اور وقت کی حدیں اسکرین کو نیند، کھیلنے یا مطالعہ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
  •         6 سے 12 سال 2 سے 3 گھنٹے فی دن۔
  •         وقت کی سخت نگرانی کی جائے۔
  •         13 سے 18سال زیادہ سے زیادہ3 سے 4 گھنٹے فی دن۔
  •         وقت کی نگرانی کے لیے سرچ کی گئی سائٹس اور سرگرمیوں کی بھی سخت نگرانی کی جائے۔

 

2016 میں کیے گئے ایک امریکی سروے کے مطابق:

  • 8 سال سے کم عمر کے بچوں کا اوسط اسکرین ٹائم روزانہ تقریباً 2 گھنٹے 19 منٹ ہے۔
  •  زیا دہ تر وقت ٹی وی اور یوٹیوب ویڈیوز پر گزرتا ہے۔
  • صرف 30% والدین اپنے بچوں کے اسکرین ٹائم پر باقاعدہ نگرانی رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین والدین کو “Active Parenting” کا مشورہ دیتے ہیں یعنی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا، سیکھنا اور سمجھانا۔

 

اسکرین ٹائم کے مثبت اثرات

ضروری نہیں کہ ہر اسکرین ٹائم نقصان دہ ہو۔اگر اسے سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات بھی ہیں تعلیمی ویڈیوز اورپروگرامز سے نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں:

  1.       دلچسپ پزل گیمز ذہنی صلاحیتیں بڑھاتی ہیں۔
  2.       یوٹیوب پر سائنس اور میتھ کے پروگرامز سیکھنے کی رفتار میں اضافہ کرتے ہیں۔
  3.       کچھ ایپس بچوں کو تخلیقی سوچ (Creative Thinking) سکھاتی ہیں۔   

         لیکن یاد رکھیں، ہر چیز میں زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔

 

والدین کے لیے رہنما اصول

دو بچے اپنی والدہ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھے ٹیبلیٹ میں مواد دیکھ رہے ہیں۔


بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرنا آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں ہے۔ یہ چند عملی مشورے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

 فیملی ٹائم بنائیں: روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ بچوں کے ساتھ اسکرین کے بغیر گزاریں۔

 مثال بنیں: اگر والدین خود فون میں مصروف رہیں گے تو بچے بھی ویسا ہی کریں گے۔

  پیرنٹل کنٹرول استعمال کریں: بچوں کے لیے “Safe Mode” یا “Kids Profile” آن رکھیں۔

  اسکرین فری زونز بنائیں: جیسے کہ کھانے کی میز یا سونے کا کمرہ۔

  تعلیمی مواد دکھائیں: کارٹون یا گیمز کے بجائے تعلیمی ویڈیوز دکھائیں۔

ماہرین کی رائے

امریکی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جینیفر ایف کے مطابق:

والدین اگر بچوں سے بات کریں کہ وہ اسکرین پر کیا دیکھ رہے ہیں،تو بچے زیادہ باشعور بنتے ہیں۔گفتگو سے اعتماد بڑھتا ہے اور غلط اثرات سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

والدین کے لیے پیغام

اپنے بچوں کے بچپن کو "اسکرین" کے قید خانے سے آزاد کریں۔انہیں دوڑنے، کھیلنے، بات کرنے، اور دنیا کو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھنے کا موقع دیں۔


خلاصہ

اسکرین ٹائم مکمل طور پر برا نہیں، لیکن زیادہ استعمال ذہنی، جسمانی اور سماجی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔بچوں کو “حقیقی کھیل” اور “انسانی تعلقات” کی ضرورت ہے۔ اسکرین انہیں وقتی خوشی دیتی ہے، مگر حقیقی سکون نہیں۔والدین اگر تھوڑا وقت نکال کر بچوں کے ساتھ بیٹھیں، بات کریں اور رہنمائی کریں تو یہی چھوٹے اقدامات مستقبل میں بڑےفائدے دیتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں!

 

ذہنی سکون اور خود کی دیکھ بھال کرنا- صحتمند زندگی کی ضمانت ہے

خود انحصاری اور حدود کو ترجیح دیں

زیادہ دیر تک بیٹھنے کی عادت کے نقصاناتاور اس کی روک تھام

وزن کم کرنے کے لیے صحت مند غذائیں


آپ کی رائے

آپ کے خیال میں بچوں کے لیے کتنا اسکرین ٹائم مناسب ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں لکھیں، تاکہ دوسرے والدین بھی آپ کے تجربات سے سیکھ سکیں۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے