سپر فوڈ جو کے ستو: معدے اور جگر کی گرمی کا توڑاورحیرت انگیز طبی فائدے
سپر فوڈجو کے ستو (Barley) شدیدگرمی میں معدے اور جگر کی گرمی اور
تیزابیت کا سپرعلاج
مصنفہ: مریم افضل
Jun 12, 2026
سپر فوڈ جو کے ستو پینےسے
شدید گرمی میں بھوک کی کمی اور سستی کا توڑ
جون اور جولائی کی
یہ تپتی ہوئی گرمی اور لو کے دن انسان کو نڈھال کر دیتے ہیں۔ اس موسم میں اکثر
لوگوں کی سب سے بڑی شکایت یہ ہوتی ہے کہ "کچھ کھانے کو دل ہی نہیں
کرتا"، "کھانا دیکھتے ہی دل خراب ہوتا ہے" یا "کچھ بھی کھا
لیں تو پیٹ بھاری ہو جاتا ہے"۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ
جب باہر کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو ہمارا جسم اندرونی درجہ حرارت کو برقرار رکھنے
کے لیے ہاضمے کے نظام کی طرف خون کا بہاؤ کم کر دیتا ہے، جس سے بھوک مر جاتی ہے
اور ہر وقت کچھ ٹھنڈا، میٹھا اور ہلکا پھلکا کھانے یا پینے کو دل کرتا ہے۔
جو کے ستوہماری روایات کا گمشدہ ہیرو
جب مئی، جون اور
جولائی کی جھلسا دینے والی دھوپ اور حبس سے بھرپور ہوائیں چلتی ہیں، تو انسانی جسم
اندرونی طور پر خشک اور نڈھال ہونے لگتا ہے۔ آج کل کی نئی نسل اس کا حل بازار کے
انرجی ڈرنکس اور ڈبے کے کیمیکل والے جوسز میں ڈھونڈتی ہے، جو عارضی انرجی تو دیتے
ہیں مگر بعد میں معدے کو تیزابیت کے جہنم میں دھکیل دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اپنی
تاریخ اور زمین کی طرف لوٹیں، تو قدرت نے ہمیں ایک ایسا امرت دیا ہے جو نہ صرف جگر
کی تپش کو سیکنڈوں میں پرسکون کرتا ہے، بلکہ جسم کو فولادی توانائی بھی دیتا ہے۔
اسے ہم "جو کے ستو" (Barley
Sattu) کہتے ہیں۔
جب بات ہو کسی ایسی غذا کی جو پیٹ کو ہلکا رکھے، جگر کی تپش کو ختم کرے اور جسمانی کمزوری بھی نہ ہونے دے، تو "جو کے ستو" کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔یہ صرف ایک مشروب نہیں، بلکہ عربی اور طبِ نبویؐ میں اسے تلبینہ کی بنیاد قرار دیا گیا ہےاور برصغیر کے دیہاتوں کا وہ روایتی سپر فوڈ ہے جسے صدیوں سے "امرت" مانا جاتا ہے اور جس نے صدیوں تک ہمارے بزرگوں کو شدید ترین گرمی میں بھی چست اور توانا رکھا۔ جو کو بھون کر اور پیس کر تیار کیا جانے والا یہ پاؤڈر دراصل ایک "سپر فوڈ" ہے۔ اس تفصیلی اور جامع مضمون میں ہم جو کے ستو کے کھیت سے گلاس تک کے سفر، اس کے اندر چھپے سائنسی رازوں، اور اس کے طبی فوائد کا احاطہ کریں گے۔
کھیت سے گلاس تک کا سفر (The Processing Journey)
بہت سے لوگ، خصوصاً
نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ستو شاید کسی فیکٹری میں بننے والا کوئی کیمیکل پاؤڈر ہے،
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ۱۰۰٪ قدرتی اور آرگینک
عمل کے ذریعے تیار ہوتا ہے۔ اس کا سفر درج ذیل چار اہم مراحل پر مشتمل ہے:
1۔ بیج سے فصل تک (Harvesting)
ستو کی بنیاد "جو" (Barley) کا اناج ہے۔ یہ
گندم کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم ترین فصل ہے۔ جب بہار کے آخر میں جو
کی سنہری بالیاں پک کر تیار ہو جاتی ہیں، تو کسان ان کی کٹائی کرتے ہیں۔ گندم کے
برعکس، جو کا دانہ اپنے اندر فائبر کا ایک بہت مضبوط بیرونی چھلکا رکھتا ہے جو اس
کی اصل غذائیت کو محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ روایتی بھنائی (Roasting)
کٹائی کے بعد، اس
کی بھوسی الگ کر لی جاتی ہے اور جو کے دانوں کو صاف کر کےلوہے کی بڑی بڑی
کڑاہیوں میں دیسی طریقے سے بہت احتیاط سے بھونا جاتا ہے جب ان کا رنگ پراؤن ہو
جائے تو فوراً اتار لیتے ہیں کیونکہ زیادہ شوخ کرنے سے جلنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس بھنائی کے دوران جو کے اندر موجود نمی ختم ہو
جاتی ہے اور اس کا نشاستہ (Starch) ہلکا اور زود ہضم (Easily Digestible) ہو جاتا ہے۔ یہی وہ
مرحلہ ہے جہاں ستو کو اس کی مخصوص، مسحور کن اور دیسی خوشبو ملتی ہے۔
3۔ چھانٹی اور صفائی (Hulling)
بھوننے کے بعد، جو
کو صاف کر لیا جاتا ہے اور اس کا اوپر کا سخت چھلکا ہلکا سا اتار کر الگ کردیا جاتا ہے، لیکن اس کی اندرونی غذائی
پرتیں (Bran) برقرار رکھی جاتی ہیں تاکہ فائبر ضائع نہ ہو۔
4۔ چکی کی پسائی (Milling)
آخری مرحلے میں، ان
بھنے ہوئے دانوں کو روایتی پتھر کی چکی پر باریک پیس لیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ پہلے
ہی پکا ہوا (Bhuna) ہوتا ہے، اس لیے اس پاؤڈر کو دوبارہ پکانے
کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پانی میں گھلنے کے لیے فوری تیار ہوتا ہے۔
جو
کے ستو کی غذائی پروفائل (Nutritional Analysis)
جب ہم 100 گرام
خالص جو کے ستو کے پاؤڈر کا تجزیہ کرتے ہیں، تو اس میں قدرت کی طرف سے درج ذیل
تمام غذائی اجزاء حاصل ہوتے ہیں:
جو کے ستو کا غذائی ٹیبل (Nutritional Value Per 100g)
|
غذائی جز (Nutrient) |
مقدار (Per 100g) |
جسم پر اس کا
اثر اور طبی فائدہ (Function) |
|
مجموعی توانائی (Calories) |
354 kcal |
جسم کو بھاری کیے
بغیر فوری اور پائیدار توانائی فراہم کرنا۔ |
|
کمپلیکس
کاربوہائیڈریٹس |
73.5 g |
سست رفتاری سے
ہضم ہو کر خون میں شوگر اور انسولین کو مستحکم رکھنا۔ |
|
ڈائٹری فائبر (Dietary Fiber) |
17.3 g |
'بیٹا گلوکان' کے
ذریعے کولیسٹرول گھٹانا اور دائمی قبض کا خاتمہ۔ |
|
پلانٹ پروٹین (Protein) |
12.5 g |
عضلات (Muscles) کی مرمت اور گرمی
کی نقاہت دور کرنا۔ |
|
کل چربی (Total Fat) |
2.3 g |
انتہائی معمولی
اور صحت بخش چربی، جس میں بیڈ کولیسٹرول صفر ہے۔ |
|
پوٹاشیم (Potassium) |
452 mg |
دل کی دھڑکن کا
توازن اور گرمی میں پانی کی کمی (Dehydration) کو روکنا۔ |
|
فاسفورس (Phosphorus) |
264 mg |
ہڈیوں کے گودے
اور دانتوں کو اندرونی طور پر مضبوط بنانا۔ |
|
میگنیشیم (Magnesium) |
133 mg |
اعصابی نظام کو
پرسکون کرنا اور پٹھوں کے کھچاؤ کو روکنا۔ |
|
آئرن (Iron) |
3.6 mg |
خون کے سرخ خلیات
بنانا اور انیمیا (خون کی کمی) کا علاج۔ |
|
زنک (Zinc) |
2.8 mg |
قوتِ مدافعت (Immunity) کو لوہے کی طرح
مضبوط کرنا۔ |
|
کیلشیم (Calcium) |
33 mg |
جوڑوں کی صحت اور
ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھنا۔ |
|
وٹامن بی-3 (Niacin) |
4.6 mg |
ہاضمے کے نظام کو
تیز کرنا اور جلد کو تروتازہ رکھنا۔ |
|
وٹامن بی-1 (Thiamine) |
0.6 mg |
اعصاب کو طاقت
دینا اور غذا کو انرجی میں تبدیل کرنا۔ |
|
وٹامن ای (Vitamin E) |
0.6 mg |
لو اور تیز دھوپ
کے مضر اثرات سے جسمانی خلیات کی حفاظت کرنا۔ |
|
وٹامن بی-6 (Pyridoxine) |
0.3 mg |
دماغی سکون فراہم
کرنا اور گرمی کے چڑچڑے پن کو دور کرنا۔ |
سپر فوڈجو کے ستو
کے طبی فوائد (Health
Benefits)
جو کے ستو کا مزاج
قدرتی طور پر سرد اور تر ہوتا ہے۔ جدید غذائی سائنس کے مطابق، ستو میں ہائی فائبر (High Fiber) اور کمپلیکس
کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ جب آپ اسے پیتے ہیں تو یہ درج ذیل طریقوں سے کام
کرتا ہے:
1۔ جگر اور معدے کی
گرمی اور تیزابیت کا فوری خاتمہ
جو کے ستو کا مزاج
قدرتی طور پر سرد اور تر ہوتا ہے۔ اس کی تاثیر قدرتی طور پر بہت ٹھنڈی ہوتی ہے۔ شدید
گرمی کے موسم میں جب ہاتھ پاؤں جلتے ہوں یا سینے میں آگ لگی ہو، تو ستو کا ایک
گلاس جگر کی تپش اور معدے کی تیزابیت کو ایسے چوس لیتا ہے جیسے کوئی اینٹاسڈ (Antacid) دوا ہو۔ گرمیوں میں معدے کا
ہائیڈروکلورک ایسڈ (HCl)
اوپر کی طرف آتا ہے جس سے سینے میں جلن ہوتی ہے۔ ستو کی الکلائن (Alkaline) فطرت معدے کے تیزابی ماحول
کو فوری طور پر نیوٹرل (Neutralize)
کر دیتی ہے۔ یہ معدے کی دیواروں پر ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے، جس سے السر اور تیزابیت
کے مریضوں کو فوری سکون ملتا ہے۔
یہ معدے کے اندرونی
زخموں (السر) کے لیے ایک قدرتی مرہم ہے۔ جب یہ معدے میں جاتا ہے، تو یہ ایک اسفنج (Sponge) کی طرح کام کرتا
ہے۔ یہ معدے میں موجود اضافی ہائیڈروکلورک ایسڈ (Acid) اور جگر کی فالتو
تپش کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور پیشاب کے راستے جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔
2۔
شدیدگرمی اور تھکن کا توڑفوری
انرجی بوسٹر:
گرمیوں میں دھوپ اور پسینے کی وجہ سے جسم نڈھال ہو جاتا ہے اور کام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ بازار کے مصنوعی انرجی ڈرنکس وقتی فائدہ دے کر جسم کو مزید تھکا دیتے ہیں، جبکہ ستو کا شربت جسم کو کئی گھنٹوں تک مستقل چستی فراہم کرتا ہے کیونکہ اس کی توانائی دیرپا ہوتی ہے۔ بازار کے شربتوں میں ریفائنڈ چینی ہوتی ہے جو خون میں انسولین کو اچانک بڑھاتی ہے، جسے "Sugar Rush" کہتے ہیں، اور آدھے گھنٹے بعد انسان شدید تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔
جو کے ستو میں "کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس" (Complex Carbohydrates) ہوتے ہیں۔ یہ خون
میں آہستہ آہستہ حل ہوتے ہیں اور جسم کو کئی گھنٹوں تک مسلسل توانائی فراہم کرتے
ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پینے کے بعد گرمی میں ہونے والی سستی اور سر کا بھاری پن
فوری دور ہو جاتا ہے۔
ستو کا گلیسیمک انڈیکس
(GI)
بہت کم ہوتا ہے۔ یہ خون میں گلوکوز کو قطرہ قطرہ شامل کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ
شوگر (Diabetes)
کے مریضوں اور ہر وقت سستی کا شکار رہنے والے نوجوانوں کے لیے ایک بہترین انرجی
ٹانک ہے۔
3۔ لو اور ہیٹ اسٹروک سے تحفظ (Thermoregulation)
شدید گرمی میں جسم
کا درجہ حرارت بڑھنے سے سوڈیم اور پوٹاشیم پسینے کے ذریعے نکل جاتے ہیں، جس سے
انسان نڈھال ہو جاتا ہے۔ ستو کا مزاج سائنسی طور پر "Hyper-osmolar"
ہوتا ہے، یعنی یہ جسم میں پانی کو دیر تک روک کر رکھتا ہے (Hydration)۔ یہ جگر کے میٹابولزم کو
پرسکون کرتا ہے، جس سے جسم کا اندرونی درجہ حرارت فوری گر جاتا ہے اور لو لگنے کا
خطرہ صفر ہو جاتا ہے۔
4۔قدرتی
بھوک کو جگانا :
بہت سے نوجوان صبح
کا ناشتہ صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ گرمی کی وجہ سے ان کا دل خراب ہو رہا
ہوتا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے جب ہاضمے کا نظام سست پڑ جاتا ہے اور کھانا دیکھ کر
دل خراب ہونے لگتا ہے، تو ستو کا استعمال معدے کے بوجھل پن کو دور کرتا ہے۔ اس میں
موجود حل پذیر فائبر (Beta-Glucan)
پیٹ کے بھاری پن اور گیس کو دور کرتا ہےاور پیٹ کو ہلکا کرتا ہے۔ ستو معدے کی
اندرونی جھلی (Mucous
Membrane) کو سکون دیتا ہے اور ہاضمے کے انزائمز کو متحرک کرتا ہے۔ جب معدہ صاف اور
پرسکون ہوتا ہے اورمعدے کا بوجھل پن دور
ہوتا ہے تو ہاضمے کے انزائمز دوبارہ متحرک ہوتے ہیں اور انسان کو صحت مند، قدرتی
بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے۔
5۔وزن میں کمی اور
فائبر کا خزانہ:
جو کے ستو میں حل
پذیر فائبر (Soluble Fiber) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف
آنتوں کی صفائی کرتا ہے اور قبض (Constipation) کو جڑ سے ختم کرتا ہے، بلکہ یہ پیٹ کو
بھرا ہوا رکھنے کا احساس دلاتا ہے، جس سے انسان بار بار فاسٹ فوڈ یا غیر ضروری
اسنیکس کھانے سے بچ جاتا ہے اور وزن کنٹرول میں رہتا ہے۔ چونکہ یہ پیٹ کو دیر تک
بھرا رکھتا ہے، اس لیے یہ موٹاپا کم کرنے کے لیے آئیڈیل ہے۔
6۔
شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے تحفہ
چونکہ اس کا گلیسیمک
انڈیکس بہت کم ہوتا ہے، اس لیے یہ خون میں شوگر لیول کو بالکل نہیں بڑھنے دیتا۔ اس
میں موجود پوٹاشیم اور میگنیشیم خون کی نالیوں کو سکون دیتے ہیں، جس سے گرمی کے
موسم میں بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔
گرمی بھگانے والے
ستو کا شربت تیار کرنے کے 2 روایتی طریقے
گرمی بھگانے والا
لیموں اورستو شربت (ترکیب)
آج کے نوجوانوں کو
روایتی چیزیں بورنگ لگتی ہیں، اس لیے اسے
اس طریقے سے بنایا جائے تو یہ کسی مہنگے کیفے کے موکٹیل (Mocktail) سے زیادہ لذیذ بنتا
ہے:
اجزاء: خالص جو کے ستو (3
کھانے کے چمچ)، ٹھنڈا پانی (ایک بڑا گلاس)، دیسی گڑ یا شکر (حسب ذائقہ - چینی سے
پرہیز کریں)، تازہ لیموں کا رس (ایک چمچ)، چٹکی بھر کالا نمک، اور پودینے کے 4
کچلے ہوئے پتے۔
1۔طریقہ تیاری: ہمارے دیہاتوں میں ستو کا
شربت زیادہ تر سادہ طریقے سے بنایا جاتا
ہے جس میں ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں گڑ یا
شکر اور ستو کو ڈال کر چمچ یا روایتی مدھانی سے اچھی طرح یکجا کر لیتے ہیں تاکہ
کوئی گٹھلی نہ رہے اور اسے بہت شوق سے پیا
جاتا ہے۔
2۔طریقہ تیاری:
جبکہ شہروں میں ستو
کا شربت اس طرح سےبنایا جاتا ہے، ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں شکر اور ستو کو ڈال کر
چمچ یا روایتی مدھانی سے اچھی طرح یکجا کر لیا جاتا ہے تاکہ کوئی گٹھلی نہ رہے۔ اب
اس میں لیموں کا رس، کالا نمک، زیرہ اور
پودینہ شامل کرتے ہیں اوراوپر سے برف کے ٹکڑے ڈال کر سرو کرتے ہیں اسے بھی بہت
پسند کیا جاتا ہے۔
یہ شربت صبح ناشتے میں چائے کے متبادل کے طور
پر، یا دوپہر کو دھوپ سے گھر لوٹنے کے بعد پینا آپ کو ہیٹ اسٹروک (لو لگنے) سے ۱۰۰٪ محفوظ رکھتا ہے۔
یہ دیسی غذا کن
لوگوں کے لیے بہترین ہے؟
یہ ہلکی پھلکی اور
توانائی سے بھرپور آرگینک غذا گھر کے ہر فرد کے لیے ایک انرجیٹک ٹانک کا کام کرتی
ہے:
- طلباء
(Students):
جو گرمی کے باوجود کالج، یونیورسٹی یا اکیڈمی جاتے ہیں اور لو کا
شکار ہو کر سست پڑ جاتے ہیں۔ ستو ان کے دماغ کو چست رکھتا ہے اور پڑھائی کے
لیے فوری فوکس فراہم کرتا ہے۔
- گھریلو خواتین
(Housewives):
کچن کے شدید گرم اور حبس زدہ ماحول میں گھنٹوں کام کرنے کے بعد جو
خواتین نڈھال ہو جاتی ہیں، ان کے لیے یہ ستو ایک انرجی ڈرنک کا کام کرتے ہیں۔
- جاب ہولڈرز (Job
Holders):
جو فیلڈ ورک کرتے ہیں یا آفس کے کاموں کی وجہ سے دوپہر کا کھانا
صحیح طرح نہیں کھا پاتے، وہ ستو کا ایک گلاس پی کر خود کو دن بھر ہائیڈریٹڈ
رکھ سکتے ہیں۔
- بزرگ اور
ریٹائرڈ افراد:
عمر کے اس حصے میں معدہ بھاری کھانے ہضم کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ستو ان
کے جسم کو بغیر بوجھ ڈالے پروٹین اور ضروری وٹامنز فراہم کرتے ہیں۔
سوال
1: کیا
گرمیوں کے موسم میں جو کا ستو روزانہ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جی
ہاں، شدید گرمی میں روزانہ ایک گلاس جو کا ستو پینا بالکل محفوظ ہے اور یہ پانی کی
کمی، ہیٹ اسٹروک (لو لگنے) اور معدے کی تیزابیت کے خلاف ایک قدرتی ڈھال کا کام
کرتا ہے۔
سوال
2: کیا
جو کا ستو وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے؟
جی
ہاں، اس میں موجود حل پذیر فائبر کی وافر مقدار پیٹ کو دیر تک بھرا ہوا رکھتی ہے،
ہاضمے کو بہتر بناتی ہے اور غیر ضروری بھوک کو کم کرتی ہے، جس سے یہ وزن کم کرنے
والی غذا میں ایک بہترین اضافہ بن جاتا ہے۔
سوال
3: کیا
جو کا ستو ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے لیے محفوظ ہے؟
اس
کے کم گلائسیمک انڈیکس (Glycemic Index) اور
پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کی وجہ سے، یہ آہستہ ہضم ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح
کو اچانک بڑھنے سے روکتا ہے۔ اگر اسے بغیر چینی کے استعمال کیا جائے تو یہ عام طور
پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موزوں ہے۔
سوال
4: ستو
بازار میں ملنے والے انرجی ڈرنکس سے کیسے مختلف ہے؟
مصنوعی
محرکات (stimulants) اور
ریفائنڈ چینی سے بھرپور کمرشل انرجی ڈرنکس کے برعکس جو توانائی کو وقتی طور پر
بڑھا کر گرا دیتے ہیں، جو کا ستو ضروری وٹامنز اور معدنیات کے ساتھ دیرپا اور
پائیدار توانائی فراہم کرتا ہے۔
سوال
5: کیا
ہم ستو بنانے کے لیے عام سفید چینی استعمال کر سکتے ہیں؟
اگرچہ
آپ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن صحت بخش اور ٹھنڈک پہنچانے والے فوائد کو زیادہ سے
زیادہ حاصل کرنے کے لیے یہ پرزور مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ دیسی گڑ یا شکر جیسے
قدرتی متبادل کا استعمال کریں۔
خلاصہ (Summary)
جو کا ستو صرف ایک
قدیم مشروب نہیں بلکہ جدید دور کی فاسٹ فوڈ کلچر کا ایک مضبوط، سائنسی اور آرگینک
جواب ہے۔ یہ کھیت سے لے کر ہماری گلاس تک مکمل طور پر کیمیکلز سے پاک رہتا ہے۔ شدید
گرمی میں جگر کی آگ بجھانے، معدے کی تیزابیت ختم کرنے، اور بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ
کے جسم کو چست اور توانا رکھنے کے لیے اس سے بہتر اور سستا سپر فوڈ دنیا میں کوئی
دوسرا نہیں ہے۔ چائے اور کیمیکل والے مشروبات کو چھوڑیں اور صحت مند طرزِ زندگی کی
طرف قدم بڑھائیں۔
یہ بھی پڑھیں!
آپ
کی رائے (Feedback)
ہمیں امید ہے کہ اس
شدید گرمی میں یہ ہلکی پھلکی اور توانا دیسی غذا آپ کو چست رکھنے میں مددگار ثابت
ہو گی۔ کیا آپ کے گھر میں بھی گرمیوں میں جو کے ستو کا استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا
ہماری نئی نسل اس روایتی مشروب کا ذائقہ پسند کرتی ہے؟ نیچے کمنٹس باکسمیں
اپنے تجربات اور رائے ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں! اس پوسٹ کو اپنے دوستوں اور
بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ شیئر کرنا نہ بھولیں تاکہ وہ بھی اس گرمی میں صحت مند رہ
سکیں۔ شکریہ!
حوالہ
جات (References)
1.
Harvard Health Publishing
): ہائی فائبر اور جو (Barley) کے ہاضمے اور دل کی
صحت پر مثبت اثرات کی تفصیلی سائنسی رپورٹ۔
2.
WebMD Probiotics
Journal: دہی اور لسی میں
موجود گڈ بیکٹیریا (Probiotics) کے ذریعے آنتوں کی سوزش اور معدے کی
تیزابیت کم ہونے کا سائنسی تجزیہ۔
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
1 تبصرے
👍
جواب دیںحذف کریںخوش آمدید! آپ کی رائے ہمارے لیے قیمتی ہے۔ براہ کرم اپنی بات ادب و احترام سے شیئر کریں، کیونکہ صحت مند گفتگو ہی صحت مند زندگی کا آغاز ہے۔ شکریہ