کیا بچپن کا موٹاپا خطرناک ہے؟ فوری طبی خطرات اور طویل مدتی اثرات


کیا بچپن کا موٹاپا خطرناک ہے؟ فوری طبی خطرات اور طویل مدتی اثرات: 

 ماؤں کےلیےخطرے کی گھنٹی  

کیا بچپن کا موٹاپا خطرناک ہے؟ فوری طبی خطرات اور طویل مدتی اثرات:   ماؤں کےلیےخطرے کی گھنٹی


تحریر:  مریم افضل
Jul 5, 2026

بچوں کو موٹاپے کے صحت پر  طویل مدتی خطرات سے کیسے بچائیں؟

آج کے دور میں بچپن کا موٹاپا محض ایک ظاہری تبدیلی، معصومانہ خوبصورتی یا بچے کا "گول مٹول" نظر آنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نہایت پیچیدہ، خاموش اور سنگین طبی چیلنج بن چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، بچپن کا موٹاپا اکیسویں صدی کے سب سے سنگین عوامی صحت کے بحرانوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے والدین اسے ایک عارضی مرحلہ (Phase) سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ "بچہ بڑا ہو کر خود ہی پتلا ہو جائے گا"، حالانکہ یہ سوچ طبی حقائق کے سراسر منافی ہے۔

  • جب کسی بچے کا وزن اس کی عمر، قد اور جسمانی ساخت کے تناسب سے حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے، تو اس کے جسم کے نازک اور ارتقائی مراحل سے گزرنے والے اندرونی اعضاء پر دباؤ دگنا ہو جاتا ہے۔ یہ چربی صرف جلد کے نیچے جمع نہیں ہوتی کہ جسے محض ایک ظاہری عیب سمجھا جائے، بلکہ یہ چربی بچے کے خون، شریانوں، ہارمونز کے نظام اور میٹابولزم (Metabolism) کو اندر ہی اندر تبدیل کرنا شروع کر دیتی ہے۔
  • جدید ترین طبی تحقیقات سے یہ تشویشناک حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ بچپن کے موٹاپے کے اثرات بچے کے معصوم حال سے لے کر اس کے پورے مستقبل (بالغ ہونے تک) کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کا بروقت سدِباب نہ کیا جائے، تو یہ بچے کے خلیاتی ڈھانچے (Cellular Structure) کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی ایسے دائمی امراض کا شکار ہو جاتا ہے جو عام طور پر پچاس سال کی عمر کے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔
 ماؤں کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ یہ بحران بچے کی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ اس کی ذہنی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

آئیں سائنسی اور طبی نقطہ نظر سے ان فوری اور طویل مدتی خطرات کا تفصیلی جائزہ لیں تاکہ ہم اس مسئلے کی سنگینی کو درست طور پر سمجھ سکیں:


1۔ ٹائپ 2 ذیابیطس (Type 2 Diabetes) اور انسولین کی مزاحمت

ماضی میں ٹائپ 2 ذیابیطس کو صرف بڑی عمر کے لوگوں یا بوڑھوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ موٹاپے کا شکار بچوں میں الارمنگ حد تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جسم میں چربی کے خلیات (Adipose Tissue) کا حد سے زیادہ بڑھ جانا ہے۔

  • انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance): جب بچے کے جسم میں فالتو چربی کا انبار جمع ہو جاتا ہے، تو جسم کے خلیات انسولین ہارمون کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انسولین کا کام خون سے شوگر کو نکال کر خلیات کو توانائی دینا ہوتا ہے۔ جب خلیات اس کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، تو شوگر خون ہی میں گردش کرتی رہتی ہے۔
  • لبلبے (Pancreas) کی تھکن: خون میں شوگر کی مقدار بڑھتی دیکھ کر لبلبہ اسے کنٹرول کرنے کے لیے دن رات زیادہ انسولین بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب لبلبہ تھک جاتا ہے اور انسولین بنانا بند یا کم کر دیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بچہ باقاعدہ ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہو جاتا ہے۔
  • طویل مدتی اثرات: چھوٹی عمر میں ذیابیطس کا شکار ہونے والے بچوں کو جوانی تک پہنچتے پہنچتے گردوں کی بیماریاں (Kidney Damage)، بینائی کی کمزوری (Retinopathy) اور اعصابی کمزوری کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

2۔ قلبی مسائل (Cardiovascular Risks) اور ہائی بلڈ پریشر

موٹاپے کا شکار بچوں کا نازک اور چھوٹا سا دل شروع ہی سے ضرورت سے زیادہ کام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چونکہ جسم کا سائز بڑا ہوتا ہے، اس لیے دل کو پورے جسم میں خون پمپ کرنے کے لیے بہت زیادہ طاقت لگانی پڑتی ہے۔

  • ایتھروسکلروسیس (Atherosclerosis) کا آغاز: موٹے بچوں کے خون میں خراب کولیسٹرول (LDL) اور ٹرائگلیسرائڈز کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اضافی چربی آہستہ آہستہ ان کی خون کی نازک شریانوں کے اندرونی حصوں میں جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو طبی زبان میں ایتھروسکلروسیس کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے شریانوں کا سخت اور تنگ ہو جانا۔
  • بچپن میں ہائی بلڈ پریشر: شریانیں تنگ ہونے کی وجہ سے خون کا بہاؤ مشکل ہو جاتا ہے اور بچے ہائی بلڈ پریشر (Hypertension) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
  • جوانی میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ: یہ وہ طویل مدتی نقصان ہے جو بالغ ہونے پر ظاہر ہوتا ہے۔ جو بچے بچپن میں موٹے ہوتے ہیں، انہیں جوانی کی ابتدائی دہائیوں (عمر 30 سے 40 سال) ہی میں دل کے دورے (Heart Attack) اور فالج (Stroke) کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

3۔ سانس کے شدید مسائل اور نیند کی کمی (Sleep Apnea)

اضافی وزن کا ایک بہت بڑا اور فوری دباؤ بچے کے پھیپھڑوں، پسلیوں اور سانس کی نالیوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بچے تھوڑا سا چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے پر بھی بری طرح ہانپنے لگتے ہیں۔

  • دمہ (Asthma) کی شدت: طبی رپورٹس بتاتی ہیں کہ موٹاپے کا شکار بچوں میں دمہ کا مرض نہ صرف جلدی پیدا ہوتا ہے بلکہ ان پر دمے کی ادویات بھی اس طرح اثر نہیں کرتیں جیسے عام بچوں پر کرتی ہیں۔
  • سلیپ اپنیا (Obstructive Sleep Apnea): یہ بچوں میں پایا جانے والا ایک انتہائی خطرناک لیکن نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ ہے۔ جب بچہ سوتا ہے، تو اس کے گلے اور گردن کے پاس موجود اضافی چربی سانس کی نالی پر دباؤ ڈالتی ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے سوتے وقت بچے کی سانس بار بار چند سیکنڈز کے لیے بالکل رک جاتی ہے، اور بچہ اچانک ہڑبڑا کر یا خراٹے لے کر جاگتا ہے۔
  • تعلیمی اور ذہنی کارکردگی پر اثر: سلیپ اپنیا کی وجہ سے بچے کے دماغ کو رات بھر آکسیجن کی مطلوبہ مقدار نہیں ملتی اور اس کی نیند ادھوری رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ صبح اسکول میں شدید سستی، چڑچڑاہٹ اور کاہلی کا شکار رہتا ہے، کلاس میں اس کا مائنڈ فوکس نہیں کر پاتا اور اس کی تعلیمی کارکردگی گراف کی طرح نیچے گر جاتی ہے۔

4۔ جوڑوں، ہڈیوں اور عضلات کا جھکاؤ (Orthopedic Issues)

بچپن اور لڑکپن کی عمر ہڈیوں اور جوڑوں کی نشوونما کا وقت ہوتا ہے۔ اس عمر میں ہڈیاں نرم اور لچکدار ہوتی ہیں اور وہ ابھی کیلشیم جذب کر کے مضبوط ہو رہی ہوتی ہیں۔

  • ہڈیوں پر اضافی بوجھ: جب ان نازک اور نرم جوڑوں پر مسلسل کئی کلو اضافی وزن کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے، تو ہڈیوں کا قدرتی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ موٹے بچوں کے گھٹنے اکثر اندر کی طرف جھک جاتے ہیں یا ان کی ٹانگیں کمان کی طرح ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں (Blount's Disease)۔
  • نقل و حرکت میں خلل (Mobility Issues): یہ بچے گھٹنوں، ٹخنوں اور کمر میں مستقل درد کی شکایت کرتے ہیں۔ درد کی وجہ سے وہ کھیل کود اور دوڑ بھاگ سے دور بھاگتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا وزن مزید تیزی سے بڑھنے لگتا ہے—یہ ایک ایسا خطرناک دائرہ (Vicious Cycle) ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
  • قبل از وقت گٹھیا (Arthritis): جوڑوں پر یہ مستقل دباؤ ان کے کارٹلیج (Cartilage - جوڑوں کی نرم ہڈی) کو گھسا دیتا ہے، جس سے قبل از وقت جوڑوں کا درد، گٹھیا اور آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا کھرنا) جیسی بیماریاں جوانی ہی میں گھیر لیتی ہیں۔

5۔ جگر اور لبلبے کی خاموش بیماریاں (Fatty Liver & Pancreatitis)

جسم کے اندرونی نظام میں موٹاپے کا سب سے بڑا حملہ جگر پر ہوتا ہے، جسے مائیں عام طور پر باہر سے دیکھ نہیں پاتیں۔

  • نان الکوحلک فیٹی لیور (NAFLD): جب جسم میں چربی ذخیرہ کرنے کی جگہ ختم ہو جاتی ہے، تو خون میں گردش کرنے والی یہ چربی بچے کے جگر کے خلیوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اسے فیٹی لیور کہتے ہیں۔ شروع میں اس کی کوئی ظاہری علامت نہیں ہوتی، لیکن اندر ہی اندر جگر میں سوزش (Inflammation) بڑھنے لگتی ہے۔ اگر اس کا وقت پر سدِباب نہ کیا جائے تو یہ جوانی تک پہنچتے پہنچتے جگر کے سکڑنے (Cirrhosis) یا جگر کے فیل ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
  • لبلبے کی سوزش (Pancreatitis): خون میں چربی (Triglycerides) کی شدید زیادتی بعض اوقات لبلبے میں اچانک اور شدید سوزش پیدا کر دیتی ہے، جو ایک میڈیکل ایمرجنسی بن سکتی ہے اور بچے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
  • قبل از وقت بلوغت (Precocious Puberty): چربی کے خلیات جسم میں ہارمونز کا توازن بگاڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں (خاص طور پر بچیوں) میں عمر سے بہت پہلے بلوغت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں، جو ان کی قد کاٹھ کی نشوونما کو روک دیتے ہیں۔

6۔ لڑکیوں میں قبل از وقت یا ابتدائی بلوغت (Early Puberty)

آج کل کی ماؤں کے لیے ایک اور انتہائی پریشان کن طبی حقیقت یہ ہے کہ بچپن کے موٹاپے کا لڑکیوں میں وقت سے پہلے یعنی ابتدائی بلوغت (Precocious Puberty) سے بہت گہرا تعلق ہے۔

  • ہارمونز کا بگاڑ: جسم میں موجود چربی کے فالتو خلیات صرف چربی ذخیرہ نہیں کرتے، بلکہ یہ 'لیپٹن' (Leptin) نامی ہارمون بھی خارج کرتے ہیں۔ جب جسم میں چربی زیادہ ہوتی ہے، تو یہ ہارمون دماغ کو یہ غلط سگنل بھیجتا ہے کہ جسم بالغ ہونے کے لیے تیار ہے، حالانکہ بچے کی اصل عمر ابھی بہت کم ہوتی ہے۔
  • جسمانی اور نفسیاتی اثرات: اس کا سب سے بڑا جسمانی نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچیوں کی ہڈیوں کی بڑھوتری وقت سے پہلے رک جاتی ہے، جس کی وجہ سے ان کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کم عمری میں اچانک آنے والی یہ جسمانی تبدیلیاں بچیوں کو شدید نفسیاتی الجھن، چڑچڑاہٹ اور شرمندگی میں مبتلا کر دیتی ہیں کیونکہ ان کا معصوم ذہن اس تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

7۔ نفسیاتی زخم اور سماجی تنقید (Mental Health Toll)

موٹاپے کے زخم صرف جسمانی اعضاء پر نہیں لگتے، بلکہ یہ بچے کی معصوم روح اور ذہن کو بھی بری طرح زخمی کرتے ہیں۔ اکثر معاشرے میں جسمانی صحت کو تو دیکھا جاتا ہے لیکن اس کے نفسیاتی اثرات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

  • باڈی شیمنگ اور بلینگ (Bullying): اسکول کے ماحول، کھیل کے میدانوں یا سوشل میڈیا پر موٹے بچوں کا اکثر مذاق اڑایا جاتا ہے، انہیں برے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور کھیلوں کی ٹیموں میں شامل نہیں کیا جاتا۔
  • کم خود اعتمادی (Low Self-Esteem): اس مسلسل تنقید اور دھونس کا شکار ہو کر بچے اپنے ہی جسم سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان کی خود اعتمادی بالکل ختم ہو جاتی ہے اور وہ شدید مایوسی اور سماجی تنہائی (Social Isolation) کا شکار ہو کر خود کو کمروں میں بند کر لیتے ہیں۔
  • اضطراب اور ڈپریشن (Anxiety & Depression): یہ نفسیاتی دباؤ چھوٹی عمر ہی میں بچوں کو کلینیکل ڈپریشن کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ذہنی دباؤ اور اداسی کو مٹانے کے لیے بچے دوبارہ 'جذباتی کھانے' (Emotional Eating) یعنی چپس، چاکلیٹ اور فاسٹ فوڈ کا سہارا لیتے ہیں، جس سے موٹاپا مزید سنگین ہو جاتا ہے۔


اس بحران سے نمٹنے کا طریقہ: ایک کثیر جہتی نقطہ نظر (The Solution)

ان تمام ہولناک صحت کے خطرات اور پچیدگیوں کو دیکھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بچپن کے موٹاپے کی روک تھام اور اس سے نمٹنا اب کوئی عیاشی نہیں، بلکہ ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ چونکہ یہ مسئلہ صرف زیادہ کھانے سے پیدا نہیں ہوا، اس لیے اس کا حل بھی صرف کھانا کم کر دینے میں نہیں ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایک کثیر جہتی نقطہ نظر (Multi-dimensional Approach) اپنانا ہوگا جس کے اہم ستون درج ذیل ہیں:

1.      صحت مند غذائی عادات کا فروغ: گھر کے کچن سے پروسیس شدہ کھانوں کو نکال کر قدرتی، ہوم میڈ متبادل لانا۔

2.      باقاعدہ جسمانی سرگرمی کی حوصلہ افزائی: بچوں کو اسکرین کی قید سے آزاد کر کے کھیل کے میدانوں کی طرف واپس لانا۔

3.      خاندان کی تعلیم اور مدد: پورے گھر کے لائف اسٹائل کو بدلنا تاکہ بچہ خود کو اس جنگ میں اکیلا نہ سمجھے۔

اہم اسمارٹ نوٹ: بچپن کے موٹاپے کی روک تھام کے لیے کوئی بھی سخت ڈائیٹ پلان خود سے بنانے کے بجائے، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد (Pediatricians یا Nutritionists) کے ساتھ مل کر ایک موزوں اور محفوظ منصوبہ تیار کرنا ضروری ہے۔ چونکہ ہر بچے کی جسمانی صورتِ حال، جینیاتی پس منظر اور الرجی کی تاریخ منفرد ہوتی ہے، اس لیے ماہرین کی نگرانی میں کی جانے والی ابتدائی مداخلت (Early Intervention) ہی بچے کو محفوظ طریقے سے تندرست بنا سکتی ہے۔


خلاصہِ کلام: ماؤں کے لیے جاگنے کا وقت

بچپن کا موٹاپا کوئی ایسی خامی نہیں ہے جسے "بچہ بڑا ہو کر خود ہی ٹھیک کر لے گا" کہہ کر ٹال دیا جائے۔ یہ ایک طبی حقیقت ہے کہ 80 فیصد موٹے بچے بڑے ہو کر بھی موٹے ہی رہتے ہیں، کیونکہ بچپن میں بننے والے چربی کے خلیات (Fat Cells) کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ صرف سائز میں چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں۔

بطور والدین اور خاص طور پر بطور ماں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس خطرے کو وقت پر پہچانیں۔ یہ جنگ صرف بچے کے وزن کو کم کرنے کی نہیں ہے، بلکہ اسے آنے والی زندگی کی ان تمام ہولناک بیماریوں سے بچا کر ایک صحت مند، متحرک اور خوشحال مستقبل کا تحفہ دینے کی ہے۔ ہماری آج کی چھوٹی سی بیداری اور لائف اسٹائل میں تبدیلی، ہمارے بچے کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔


نوٹ:   اس مضمون میں پیش کی گئی معلومات تعلیمی اور عوامی آگاہی کے مقاصد کے لیے ہیں۔ اس کا مقصد پیشہ ورانہ طبی مشورے، تشخیص، یا کسی قابل صحت نگہداشت فراہم کنندہ کے ذریعہ علاج کا متبادل نہیں ہے۔

 

 یہ بھی پڑھیں

بچپن کے موٹاپے کے پوشیدہ عوامل اوروجوہات

بچوں کو موٹاپے سے کیسے بچائیں؟

صرف کم کھانے سے وزن کم کیوں نہیں ہوتا؟



آپ کی رائے: ایک ماں کے طور پر آپ کا کیا تجربہ ہے؟

بچوں کی تربیت اور ان کی صحت کا خیال رکھنا ایک انتہائی صبر طلب کام ہے۔ ہر بچے کی عادت، پسند اور اس کا جسمانی رجحان دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔

ہم آپ سے جاننا چاہتے ہیں:

  • ایک ماں یا سرپرست کے طور پر، آپ کو اپنے بچوں کی خوراک متوازن رکھنے اور ان کے اسکرین ٹائم کو کنٹرول کرنے میں سب سے بڑی مشکل کیا پیش آتی ہے؟
  • کیا آپ نے کبھی اپنے بچے کے لائف اسٹائل میں کوئی ایسی چھوٹی سی تبدیلی کی، جس سے اس کے وزن، چستی یا موڈ پر مثبت اثر پڑا ہو؟

نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنے قیمتی خیالات، سوالات اور ذاتی تجربات لازمی لکھیے۔ یاد رکھیے، آپ کا شیئر کیا گیا ایک چھوٹا سا تجربہ یا ٹوٹکا کسی دوسری فکر مند ماں کے لیے ایک بہترین رہنمائی اور حوصلے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہم آپ کے ہر سوال کا جواب خود دیں گے!


 اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)


1)  مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میرا بچہ صرف "گول مٹول" (Chubby) ہے یا وہ واقعی موٹاپے کا شکار ہے؟

محض ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرنا طبی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اس کا سب سے مستند طریقہ بچے کا BMI (باڈی ماس انڈیکس) چیک کرنا ہے، جو اس کی عمر، قد اور وزن کے تناسب سے نکالا جاتا ہے۔ اگر بچے کا BMI اپنی عمر کے گروپ میں 85 ویں پرسنٹائل سے اوپر ہو تو اسے زیادہ وزن، اور اگر 95 ویں پرسنٹائل سے اوپر ہو تو اسے باقاعدہ موٹاپا (Obesity) مانا جاتا ہے۔ اس کے لیے آپ اپنے چائلڈ اسپیشلسٹ سے رجوع کر کے اس کا گروتھ چارٹ دیکھ سکتے ہیں۔


2)  کیا بچوں کو وزن کم کرنے کے لیے بالغوں کی طرح ڈائٹنگ یا کیلوریز کم کرنی چاہئیں؟

 بالکل نہیں! بچوں کا جسم ابھی نشوونما پا رہا ہوتا ہے، اس لیے انہیں سخت ڈائٹنگ پر ڈالنا یا ان کا کھانا پینا شدید کم کر دینا ان کے قد، ہڈیوں اور دماغی صلاحیت کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بچوں کے معاملے میں ہدف "وزن کم کرنا" نہیں بلکہ "وزن کو مستحکم رکھنا" ہوتا ہے، تاکہ جیسے جیسے ان کا قد بڑھے، ان کا وزن قد کے تناسب میں خود ہی متوازن ہو جائے۔ اس کے لیے صرف بازاری کھانوں کی جگہ گھر کی صحت مند غذا اور کھیل کود کافی ہے۔


(3  میرا بچہ صحت مند کھانا کھانے سے صاف انکار کرتا ہے اور صرف جنک فوڈ مانگتا ہے، میں کیا کروں؟

یہ تقریباً ہر ماں کا مسئلہ ہے۔ اس کا حل زبردستی کرنے میں نہیں بلکہ حکمتِ عملی میں ہے۔ سب سے پہلے گھر میں جنک فوڈ لانا اور اسے فریج میں رکھنا بالکل بند کر دیں۔ دوسرا، صحت مند کھانوں کو بچوں کے لیے پرکشش بنائیں۔ جیسے کہ عام روٹی کے بجائے رنگ برنگی سبزیوں والا ہوم میڈ پیزا یا پراٹھا رول بنا دیں، بازاری جوس کی جگہ پھلوں کی اسموdefaultدی (Smoothie) بنا دیں۔ یاد رکھیں، بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کہتے ہیں، بلکہ وہ کرتے ہیں جو وہ آپ کو (والدین کو) کرتے دیکھتے ہیں۔


4)  کیا موٹاپا نسل در نسل چلتا ہے؟ اگر والدین موٹے ہوں تو کیا بچہ لازمی موٹا ہوگا؟

جینیات (Genetics) ایک کردار ضرور ادا کرتی ہیں اور اگر والدین موٹاپے کا شکار ہوں تو بچوں میں اس کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن، جینیات صرف ایک بندوق کی طرح ہے، جبکہ ہمارا طرزِ زندگی (Lifestyle) اس کا ٹریگر ہے۔ اگر آپ اپنے گھر کا ماحول، کھانے پینے کی عادات اور لائف اسٹائل بدل دیں، تو آپ جینیاتی رجحان کے باوجود اپنے بچے کو موٹاپے اور اس کے خطرات سے 100 فیصد محفوظ رکھ سکتی ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے